ابنا: مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں اخوان المسلمین سے وابستہ معزول صدر محمد مُرسیکو سابق ڈکٹیٹرحسنی مبارک کی طرح لوہے کے پنجرے میں عدالت میں پیش کیا گیا جس پر مرسی کے وکلاء احتجاج کرتے ہوئے عدالت سے واک آؤٹ کرگئے۔جس کے بعد ججوں نے مرسی کے خلاف جاسوسی اور دہشتگردی کی سازش کے الزامات کے تحت مقدمے کی کارروائی ملتوی کر دی ۔تاہم ججوں نے سماعت ملتوی کرنے کا فیصلہ اُس وقت کیا جب محمد مُرسی کے وکلا احتجاجاً عدالت سے اِس لیے واک آؤٹ کر گئے کہ اُن کے موکل سمیت دیگر ملزمان کو لوہے اور شیشے کے پنجرے میں رکھا گیا ہے جس سے اُن کی آواز بھی باہر نہیں سنی جا سکتی۔ عدالت نے کہا ہے کہ وہ محمد مرسی کے لیے نئے وکیل صفائی کا بندوبست کرے گی۔ عدالت نے مقدمے کی سماعت کی نئی تاریخ 23 فروری مقرر کی ہے۔مصر کے پہلے جمہوری طور پر منتخب صدر محمد مرسی کو جولائی 2013 میں مصری فوج نے ایک بغاوت میں برطرف کر دیا تھا۔اب ان کے خلاف مختلف الزامات کے تحت چار مقدمے چلائے جا رہے ہیں اور اتوار کو زیرِ سماعت مقدمے میں محمد مُرسی اور مصر کی اسلام پسند تنظیم اخوان المسلمین کے 35 ارکان پر مصر کی سرزمین پر حملے کرنے کے لیے غیر ملکی طاقتوں کے ساتھ تعاون کرنے کا بھی الزام ہے۔
.......
/169